بھٹکل:26؍ جنوری (ایس اؤ نیوز)پڑوسی تعلقہ ہوناور میں پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے لئے امتناعی احکامات نافذ کرکے ماہی گیروں کو گرفتار کرتےہوئے حکومت زور زبردستی اور ظلم کئےجانے کا قومی ماہی گیر اسوسی ایشن کے ریاستی صدر راماموگیر نےسنگین الزام عائد کیا ہے۔
اس سلسلےمیں انہوں نےپریس ریلیز جاری کرتےہوئےکہاہےکہ ہوناور کے کاسرکوڈ میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے لئے آس پاس امتناعی احکامات نافذ کئے گئےہیں انہوں نے وہاں احتجاج کے لئےپہنچے ماہی گیر لیڈروں کو گرفتار کئے جانے کی مذمت کرتے کہا کہ پچھلے دودنوں سے ماہی گیر مچھلی کا شکار بند کرتےہوئے احتجاج کررہےہیں ۔ حکومت کا ماہی گیروں کو مکمل طورپر نظر انداز کرنا ماہی گیروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی ہے۔
پریس ریلیز میں کہاگیا ہےکہ ہمیں تجارتی بندرگاہ کی ضرورت نہیں ہے، اس تعلق سے ماہی گیر اپنی آواز بلند کئے ہوئے ہیں لیکن حکومت ہماری آواز کو دبانا چاہتی ہے۔گذشتہ چند دنوں سے حکومت اور ضلعی انتظامیہ پولس کواستعمال کرتےہوئے ماہی گیروں کا منہ بند کرنےکی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ آئندہ دنوں میں حکومت کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔ ماہی گیروں کی زندگی برباد کرنے والے ایسے منصوبہ جات کی ہمارے ضلع میں ضرورت نہیں ہے۔ منصوبے کے خلاف ماہی گیر متحدہ آواز اٹھار ہےہیں لیکن حکومت ہے کہ کان بندکئے بیٹھی ہے۔ آئندہ دنوں میں بڑےپیمانے پر منصوبوں کی تعمیر کرنے کے بجائے فی الوقت ہمیں ہماری زندگی کی تعمیر کے لئے موقع دینے کا مطالبہ کرتےہیں۔
بندرگاہ کی تعمیر کے لئے ضلع ڈپٹی کمشنر کو پبلک ہئیرنگ کرنی ہوتی ہے۔ کاسرکوڈ بندرگاہ کی تعمیر کےلئے جب پبلک ہیئرنگ کی گئی تو وہاں ماہی گیروں نے ایک آواز میں کہاتھا کہ ہمیں بندرگاہ کی مطلق ضرور ت نہیں ہےاور ہمیں تعجب بھی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی بورڈ نے کیسے منظوری دی ۔ حکومت سبھی کو اندھیرےمیں رکھ کر اپنا منصوبہ جاری کرنا چاہتی ہے جس کی کڑی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح یوم ِ جمہوریہ کے موقع پر سمندر کنارےپہنچیں عورتوں اور ماہی گیروں پر پولس کا لاٹھی چارج کی بھی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس زور زبردستی کو فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کرتےہیں۔
حکومت کے اس منصوبے کو مقامی ماہی گیروں کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے البتہ اس کے برعکس ماہی گیروں کومشکلات کا سامنا ہوگا۔ مچھلی کی نسل برباد ہوگی اوربحرہ عرب کا ساحلی کنارہ کمیاب کچوے کی نسل کامرکز ہےیہاں دور دراز مقامات سے کچوے انڈے دینے کےلئے آتےہیں ۔ زوال آمادہ کچوے کی نسل بندرگاہ کی تعمیر سے برباد ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی قیمت پر بندرگاہ کی تعمیر ہونے نہیں دیں گے۔ اگر حکومت اپنا یہی رویہ جاری رکھتی ہے تو آئندہ دنوں میں حکومت کے خلاف ماہی گیر ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کا انتباہ دیا۔